ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 17:55
منبرِ حرم اور دربارِ اقتدار: جب دین تخت کی زبان بولنے لگے

حوزہ/تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ دین کو نقصان ہمیشہ دین کے دشمنوں ہی سے نہیں پہنچا؛ کبھی نقصان ان لوگوں کے ذریعہ بھی ہوا جنہوں نے دین کا لباس پہن کر اقتدار کی چوکھٹ کو اپنا مرکز بنا لیا۔ جب عالم کا قلم حاکم کی مرضی کا محتاج، منبر اس کے اشارے کا منتظر اور فتویٰ سیاسی مفاد کا محافظ بن جائے تو صافہ اور پگڑی باقی رہتی ہے، مگر آزادیِ فکر اور حق گوئی کمزور پڑ جاتی ہے۔ سر پر عِقال ہوتی ہے مگر عقل غائب ہو جاتی ہے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ دین کو نقصان ہمیشہ دین کے دشمنوں ہی سے نہیں پہنچا؛ کبھی نقصان ان لوگوں کے ذریعہ بھی ہوا جنہوں نے دین کا لباس پہن کر اقتدار کی چوکھٹ کو اپنا مرکز بنا لیا۔ جب عالم کا قلم حاکم کی مرضی کا محتاج، منبر اس کے اشارے کا منتظر اور فتویٰ سیاسی مفاد کا محافظ بن جائے تو صافہ اور پگڑی باقی رہتی ہے، مگر آزادیِ فکر اور حق گوئی کمزور پڑ جاتی ہے۔ سر پر عِقال ہوتی ہے مگر عقل غائب ہو جاتی ہے۔

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے خلاف اموی پروپیگنڈے سے لے کر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح اور پھر کربلا کے سانحہ تک، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب اقتدار مذہبی زبان کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے تو حق کو ’’فتنہ‘‘ اور خاموشی کو ’’حکمت‘‘ قرار دینا آسان ہوجاتا ہے۔

قاضی شریح کا نام بھی اسی تاریخی بحث میں آتا ہے۔ اس نے قتلِ امام حسین علیہ السلام کا فتویٰ دیا تھا۔

کربلا کا المیہ صرف یہ نہیں تھا کہ تلواریں چلیں؛ المیہ یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگ حق کو پہچاننے کے باوجود اس کے ساتھ کھڑے نہ ہوسکے۔

اور تاریخ کا سوال آج بھی وہی ہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام حق تھے تو اہلِ منبر کہاں تھے؟

صدیاں گزر گئیں، سلطنتیں بدل گئیں، لباس بدل گئے، درباروں کی عمارتیں مٹ گئیں؛ مگر آج بھی اقتدار مذہبی منبر کو اپنا بھوپو بنانا چاہتا ہے۔

18 ستمبر 2026ء کو مسجد الحرام اور مسجد النبوی کے خطباء نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کے حوالے سے شدید لہجہ اختیار کیا۔ جب کہ مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کے واقعہ کے بارے میں سعودی حکام کا مؤقف کے بعد حوثیوں کی تردید سامنے آ چکی تھی۔

لیکن یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک عظیم حدیث سامنے آتی ہے:لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ وَدَمِهِ..."

یعنی مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے، خصوصاً اس کے مال اور خون کی حرمت۔ یہ روایت سنن ابن ماجہ میں منقول ہے۔

یہ حدیث صرف ایک روحانی نصیحت نہیں؛ یہ مسلمانوں کے لئے ایک اخلاقی میزان بھی ہے۔

اگر بیت اللہ کی حرمت پامال کرنا جرم ہے تو مومن کا خون بہانا کس طرح معمولی ہوسکتا ہے؟

اگر کعبہ کی طرف اٹھنے والا ہاتھ قابلِ مذمت ہے تو کسی بے گناہ انسان کی جان لینے والی تلوار کو کس بنیاد پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟

اگر مکہ کے شہری کی جان محترم ہے تو لبنان کے شہری کی جان بھی محترم ہے۔

اگر مدینہ کے باشندے کو خوف زدہ کرنا ناقابلِ قبول ہے تو پاراچنار کے خاندانوں کا خوف بھی توجہ کا مستحق ہے۔

اگر حرمین کے امن کا ذکر ضروری ہے تو فلسطین کے بچوں، جنوبی لبنان کے متاثرین، شام کے متاثرہ شیعہ خاندانوں، قطیف کے شہریوں اور جنگ سے متاثرہ ایرانی عوام کی جان و عزت بھی انسانی اور اسلامی ضمیر کے سوالات میں شامل ہونے چاہیے۔

حرمتِ مومن جغرافیہ نہیں دیکھتی۔ مومن مکہ میں ہو یا مدینہ میں، لبنان میں ہو یا قطیف میں، پاراچنار میں ہو یا شام میں، فلسطین میں ہو یا ایران میں—اس کی جان اور عزت کی حرمت کسی سیاسی نقشہ سے تبدیل نہیں ہوتی۔

یہیں سے منبر کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ مخالف کے ظلم کو ’’ظلم‘‘ کہنا آسان ہے؛ اپنے حلیف یا اپنے سیاسی حلقے سے وابستہ قوت کے ظلم پر بھی وہی اخلاقی معیار قائم رکھنا مشکل ہے۔

دشمن کے حملے کی مذمت کرنا آسان ہے؛ مظلوم کی شناخت، مسلک، قوم اور جغرافیہ دیکھے بغیر اس کے خون کی حرمت بیان کرنا اصل امتحان ہے۔

اور یہی وہ سوال ہے جو آج کے منبر سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا حرمتِ کعبہ صرف ایک مقدس عمارت کی حرمت ہے، یا اس حرمت کے سائے میں ہر بے گناہ انسان کی جان بھی محترم ہے؟

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم مومن کی حرمت کو کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ اہم قرار دیتی ہے تو انسانی جان کی حرمت کو سیاسی نقشے کے مطابق تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

کعبہ سب مسلمانوں کے لئے مقدس ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کے رسول ہیں اور مومن کا خون کسی حکومت، جماعت، مسلک یا جغرافیہ کی ملکیت نہیں۔

یہیں آکر درباری منبر کی زبان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ اقتدار پوچھ سکتا ہے: ’’ظالم کون ہے؟‘‘

مگر مکتبِ امام حسین علیہ السلام سوال کو ایک اور رخ دیتا ہے: ’’مظلوم کون ہے؟‘‘ اور پھر: ’تم نے مظلوم کے لئے کیا کہا؟‘‘

کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خاموشی بھی کبھی تاریخ کا جرم بن جاتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے مقابلے میں صرف تلواریں نہیں تھیں؛ خوف، سیاسی جبر، مفاد اور خاموشی بھی ایک طاقت بن چکے تھے۔

اسی لئے آج کے منبر کا امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ کس دشمن کے خلاف تقریر کرتا ہے؛ اصل امتحان یہ بھی ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے حق کی بات کتنی آزادی سے کہتا ہے اور مظلوم کی حمایت میں اس کا اخلاقی معیار کتنا یکساں رہتا ہے۔

حرمین شریفین پوری امت کے دل ہیں۔ ان کے منبر کسی ایک خاندان، حکومت یا سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں؛ ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجدوں سے ہے۔

مکہ کا منبر اگر حرمتِ کعبہ بیان کرتا ہے تو اسے حرمتِ مومن بھی یاد رکھنی چاہیے۔

مدینہ کا منبر اگر رحمتِ عالمؐ کی نسبت رکھتا ہے تو اس کی زبان میں ہر مظلوم کے لئے رحمت اور ہر ظالم کے لئے یکساں اخلاقی معیار ہونا چاہیے۔

لبنان کے متاثرین کے لئے بھی۔ پاراچنار کے خوف زدہ خاندانوں کے لئے بھی۔ قطیف کے شہریوں کے لئے بھی۔ شام کے متاثرہ خاندانوں کے لئے بھی۔ فلسطین کے بچوں کے لئے بھی۔ اور جنگ سے متاثرہ ایرانی شہریوں کے لئے بھی۔

ورنہ سوال پھر وہی رہے گا کہ منبرِ رسولؐ سے نکلنے والی آواز حق کی آواز ہے یا اقتدار کی ترجمان؟

تاریخ نے بہت سے بادشاہ دیکھے اور بہت سے درباری بھی۔ بادشاہ گزر گئے۔ دربار مٹ گئے۔ مگر امام حسین علیہ السلام کا نام آج بھی زندہ ہے۔

کیونکہ اقتدار تاریخ کے صفحات پر اپنا بیانیہ لکھ سکتا ہے، مگر حق تاریخ کے حافظے میں اپنا مقام خود بناتا ہے اور ہر دور کا فکر حسینی منبر سے یہی سوال کرتی ہے کہ’’جب حق اور تخت آمنے سامنے ہوں، تم کس کے ساتھ ہو؟‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha